61

چھوٹے میاں چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ

ایک بچے نے سمندر میں اپنا جوتا کھو دیا تو بلکتے ہوئے بچے نے سمندر کے ساحل پر لکھ دیا……..
*یہ سمندر چور ہے۔

کچھ ہی فاصلے پر ایک شکاری نے سمندر میں جال پھینکا اور بہت سی مچھلیوں کا شکار کیا تو خوشی کے عالم میں اس نے ساحل پر لکھ دیا۔
*سخاوت کیلئے اسی سمندر کی مثال دی جاتی ہے۔

ایک غوطہ خور نے سمندر میں غوطہ لگایا اور وہ اس کا آخری غوطہ ثابت ہوا کنارے پر بیٹھی غمزدہ ماں نے ریت پر ٹپکتے آنسوں سے لکھ دیا۔
*یہ سمندر قاتل ہے۔

ایک بوڑھے شخص کو سمندر نے قیمتی موتی کا تحفہ دیا تو اس نے خوشی سے لکھ دیا۔
*یہ سمندر بڑا کریم اور سخی ہے۔

پھر ایک بہت بڑی لہر آئی اور اسنے سب لکھا ہوا مٹا دیا
لوگوں کی باتوں پر کان مت دھرو ہر شخص وہ کہتا ہے جہاں سے وہ دیکھتا ہے
خطاؤں اور غلطيوں کو مٹا دو تاکہ دوستی اور بھائی چارگی بڑھے۔
16جون کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں سینٹر مشاھد اللہ خاں نے بڑی دھواں دار تقریر کی ۔مجھے بہت افسوس ہوا کہ انہوں نے کس طرح کے الفاظ استعمال کیے ۔انہیں اپنے بڑے ہونے کا تو کچھ نہ کچھ لحاظ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آپکا وزیر اعظم منگتا ہے ۔میں ان سے صرف یہ پوچھنا چاہوں گا وہ کس کے لیے مانگتا ہے ۔اسے کسی چیز کی کمی ہے ۔ہر ایک چیز ہے ۔اگر وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے ۔تو وہ اپنی قوم کے لیے۔پھر انہوں نے کہا کہ وہ چوروں کا وزیر اعظم ہے ۔اس کے نیچے جو کا کرنے والے ہیں وہ سب چور ہیں ۔افسوس کے ساتھ اگر میں یہ کہ دوں کہ پہلے اپنے گریباں کے اندر جھانک کر دیکھیں کہ آپ کن کے ساتھ کا م کر رہے ہیں۔سب سے بڑا قومی چور تو آپکا لیڈر ہے ۔
افسوس صد افسوس ان کے ساتھ کام کرنے والوں کو شرم نہیں آتی ۔ٹاک شوز میں آ کر بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم کرپشن کرتے ہیں ۔ایک صاحب کہتے ہیں کہ اگر ہمیں چالیس روپے ملیں تو بیس ہم خود کھاتے ہیں اور نیس عوام کو دیتے ہیں ۔
کم از کم بڑے کو تمییز ہونی چاہیے ۔اگر چھوٹے غلط کام کریں تو انہیں سمجھانا چاہیے۔نہ کہ اپنا برا اثر ورسوخ ان پر چھوڑا جائے۔
اختتام کچھ یوں لکھوں گا۔
اب جس کے من میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا۔

اس تحریر سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں