52

چلو فرض کر لیتے ہیں

فرض کریں آپ ایک بہت بڑے بحری جہاز پر سوار ہیں۔۔ آپ کا سفر سمندر کے بیچوں بیچ رواں دواں ہے اچانک آپ کو محسوس ہوتا کہ سمندر کے پانی میں طغیانی بڑھ رہی ہے ۔ یہ یقیناً کسی بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔۔ جہاز میں فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا اعلان کردیا جاتا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے طوفان آ پہنچتا ہے۔ جہاز کے نیچے کے تختے ٹوٹ جاتے ہیں اور جہاز ڈوبنے لگتا ہے۔ قدرت آپ کو صرف اتنا موقع دیتی ہے ۔۔ کہ آپ کا یہ ڈگمگاتا ہوا بحری جہاز آپ کو ایک جزیرے پر اتار دیتا ہے۔۔ اور سمندر کے تند و تیزھوا، طغیانی ،اور طوفان کی وجہ سے آپ کا جہاز مزید سفر کے قابل نہیں رہتا اور ڈوب جاتا ہے۔۔ آپ کو پتہ چلتا ہے کہ جہاز کے ڈوبنے سے پہلے تقریبا دس ہزار لوگ، جن میں ہر عمر، ہر جنس کے افراد شامل ہیں، بخیریت جزیرے کی خشکی پر اتر گۓ ہیں، آپ کے اردگرد نہ کوئی مدد ہے نہ کوئی حکومت۔ زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لیے آپ کو جو کچھ بھی کرنا ہے خود کرنا ہے۔۔ دنیا سے دور یہ جزیرہ یا تو آپ کی زندگی کی شمع روشن کرا سکتا ہے یا آپ کا آخری قبرستان ثابت ہو سکتاھے۔۔۔۔ اب آپ کیا کریں گے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنگل کا ایک قانون ہے۔ جب تک طاقتور اور کمزور کا فیصلہ نہیں ہو جاتا امن قائم نہیں رہ سکتا۔ اب اس جزیرے پر سب سے پہلے، چھوٹے اور بڑے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔۔ اگر تمام لوگ کہیں کہ وہ ایک ہی دن میں ایک ہی وقت پر پیدا ہوئے ہیں تو پھر کون بڑا ھے، کا فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لہذا سب سے پہلے چھوٹے کو بڑے ، بڑے کو بزرگ اور بزرگ کو برگزیدہ کی عزت کرنی ہوگی اور اسے بڑا ماننا ہوگا۔ پھر آپ آہستہ آہستہ انسانی اقدار کی چھتری تلے، ایک نظام واضح کرنا شروع کر دیں گے۔۔۔ مجرم اور شریک جرم لوگوں کو،، علیحدہ کرکے ان کی حوصلہ شکنی کریں گے، انصاف کے ترازو میں تولنا شروع کر دیں گے۔ کیونکہ بہرحال یہ آپ کی بقا کا سوال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ایک دفعہ پھر فرض کر لیتے ہیں،، ہر وقت لعن طعن سمیٹنے والی یہ حکومت، تمام غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرای جانے والی یہ حکومت، آپ کی زندگی کو اجیرن بنا نے والی یہ حکومت، آپ کو رہن سہن کا تھکا ھوا نظام دینے والی یہ حکومت آپ کے سروں پر موجود ھی نہیں ہے۔۔ یا اگر موجود ہے تو ناکام ہوگئی ہے.. تو ایمانداری سے بتائیں اب آپ کیاکریں گے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا زندہ رھنا چھوز دہں گے۔کیا اب زندگی کے لیے تگ و دو کرنا آپ کا فرض نہیں ہے۔۔ میں مانتا ہوں کہ ہماری زندگیوں میں ایک بڑا خلا حکومت کی ناکامیوں کا ہے لیکن ان معاشرتی خامیوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے جو ہماری اپنی پیدا کردہ ھیں۔۔ ۔۔ ہم مسلمان ہیں۔۔ اگر دیانتداری سے بات کی جائے تو ہم اپنی اسلامی اقدار پر بالکل بھی عمل پیرا نہیں ہیں۔۔ ہمیں اس پاک دھرتی پر رہتے ہوئے اپنی زندگی کی بقا کی پرواہ بھی نہیں ہے۔ آخر ہمارا پڑھا لکھا طبقہ، کم پڑھے لکھے والوں کو، اور کم پڑھے لکھے والے بغیر پڑھے لکھے والوں کو سمجھا کیوں نہیں رہا۔۔۔ ہمارے فکر والے ہمارے بے فکروں کو بتا کیوں نہیں رہے۔۔ ۔۔ کامیابی کے گر جاننے والے ناکام لوگوں کو سکھا کیوں نہیں رہے۔۔ اب تو ہم نے وبا کے دنوں میں دیکھ لیا ہے۔۔ کہ انفرادی طور پر ، آپ کی دولت اور آپ کی حیثیت آپ کو نہیں بچا سکتی۔۔ اگر بچنا ہے تو آپ کو پورے معاشرے سے معاشرتی فاصلے کے اس اصول کو عمل پیرا کروانا ہوگا۔ صرف تب آپ کے ارد گرد امن آسکتا ہے اوراس وبا سے بچا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا کے بندوں، اب تو حکومتی وزیر بھی ہمیں جاھل اور نادان کہہ کر ہم سے جان چھڑانے لگے ہیں ۔صحت و تندرستی کے وزیر نے آنے والی تباہی کو عوام کے رویے سے مشروط کردیا ہے۔گویا خود جیو،خود مرو کا اعلان ہوگیا ہے۔۔۔ اور دوسری طرف ہم عوام ابھی بھی اپنی ذاتی مفاد اور لالچ کے لیے، اپنے کھوٹے سکے چلانا چاہتے ہیں ۔ نہ جانے کیوں ہم میں سے ہر ایک اندھیرے میں ایک وار کرنے کا سوچتا ھے۔۔ ہر کسی کا خیال ہے کہ اتنے بڑے ہجوم میں اگر میں اندھیرے میں وار کر بھی لوں تو میرا ہاتھ کہاں پہچانا جائے گا۔۔ سڑک پر چلتے چلتے میں اگر کچرا روڈ پر پھنک بھی دوں تو اس پر میرا نام تو نہیں لکھا۔۔۔ اتنے بڑے بازار میں اگر میں جعلی نوٹ چلا بھی دوں تو کیا پتا چلتا ہے۔ ہمارے بازار میں چور بازاری کرنے والا کبھی نہیں چاہتا۔ کہ اسے چور کہا جائے۔ لیکن وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ میری چوری جاری رہے اور میں دکھا نہ جاؤں۔۔ ھمارا دودھ میں ملاوٹ کرنے والا صرف پانی کے بےرنگ ہونے کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ ورنہ اس کے خیال میں وہ معاشرے کا ایک معزز شہری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس بہت ھو گیا۔ آئیے اب اپنے اس جزیرے کو بچانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ حکومت اچھی ہے یا بری، اس کو تھوڑا بعد میں دیکھ سکتے ہیں۔۔ ہم اچھے ہیں یا برے اس کا فیصلہ ابھی کر لیتے ہیں۔ اگر ہم اچھے ہیں۔ اور اندھیرے اور اجالے دونوں میں خود سے آنکھ ملا سکتے ہیں۔۔ تو مزید اچھا بننے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔ نیکیوں کا پرچار اپنے ارد گرد اپنے دوست واحباب میں کرانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے پاس تعلیم ہو یا نہ ھو۔ آیئے اس کی کمی تربیت سے پوری کرنا شروع کر دیتے ہیں۔۔ اور اگر خدانخواستہ ہم برے ہیں۔ تو کیوں نہ تنہائی میں، اپنے گذشتہ گناہوں کی معافی مانگ کر،، آئندہ سے غلطی اور گناہ نہ کرنے کا عہد کر لیتے ہیں،، ملاوٹ اور گراوٹ دونوں سے توبہ کر لیتے ہیں، آکسیجن چھپانے والوں اور پلازما بیچنے والوں دونوں کو راہ راست پر لانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ آئیے آج ہم تہیہ کر لیتے ہیں، کہ ہم اپنا وقت حکومت کو لعن طعن کرنے میں برباد نہیں کریں گے۔ معاشرے میں اپنے بنیادی اقدار کو فروغ دیں گے۔۔ اپنے چھوٹوں کو سمجھائیں گے، اور بزرگوں کو بچائیں گے۔۔ مہذب قوموں کی طرح ایک باعمل اسلامی معاشرہ بن کر دکھائیں گے۔۔ اور پھر اللہ ہمیں حکمران بھی اچھے نصیب فرما دے گا۔۔انشاءاللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں