آج کا کالم: ہنر

آج میں آپ کو ایک ہنر کے بارے میں انفارمیشن دوں گا۔جو میں نے “روبینہ کا نقطہ” سے لیا ہے ۔بہت ہی اہم بالخصوص صحافت سے تعلق رکھنے والوں کے لیے۔شروع رب کریم کے نام سے ۔
قلم صرف قلم نہیں ہے یہ علم و آگہی کا وسیلہ ہے۔قلم کی اہمیت ہرزمانے میں قائم ودائم رہی ہے۔قلم نے بڑے بڑے برج الٹ دیئے،اور تار تار سسکتی انسانیت کو زمانے کے سامنے ایسے آشکار کیا کہ خود قلم بھی رو پڑا،کبھی تدبر وتفکر کے بند دریچوں کو وا کرتا ہے اور دماغ و دل کو معطر کر جاتا ہے۔قلم کی شہادت خود قلم بنانے والے نے دے دی اس سے بڑی عظمت کیا ہوگی۔
(والقلم وما یسطرون) “قسم ہے قلم کی جس سے وہ لکھتے ہیں۔”
اسی قلم نے بہت سے قلم کار پیدا کیئے ،جنہیں میں سے ایک کالم نگار بھی ہیں۔کالم نگاری اور قلم کا اٹوٹ انگ کا رشتہ ہے۔کالم نویسی کی تاریخ بہت پرانی ہے،یہ ادب کا حصہ ہے۔صحافت کے بتیس شبعے ہیں جن میں سے ایک کالم نگاری ہے ۔مضمون نویسی اور آرٹیکل اسی کے ہم نام ہیں ۔ ہماردو دائرہ معارف اسلامی کے مطابق کالم نگاری کی تعریف یہ ہے۔
” کالم نگاری یا مقالہ نگاری صحافت سے جُڑا ایک پیشہ ہے، کالم نگار کا کام اخبارات و جرائد میں مضامین لکھنا ہوتا ہے، ان مضامین میں مضمون نویس اپنے مشاہدات و نظریات کی روشنی میں مختلف موضوعات پر مضامین لکھتا ہے جو مختلف اخبارات و جرائد میں چھپتے ہیں۔”
اگر آپ معاشرے کے حالات و واقعات کو قلم بند کرتے ہیں اور انھیں سدھارنا چاہتے ہیں تو آپ کالم نگار ہیں۔دنیا لاکھ کہتی رہے کہ کالم نگاری ادب کا حصہ نہیں اگر آپ کا انداز ادبی ہے تو آپ ادیب پہلے اور کالم نگار بعد میں ہیں۔ڈاکٹر اجمل نیازی کالم نگاری کو ادب کے لئے حرف آخر مانتے ہیں۔اردو کالم نگاری میں وقت کے ساتھ ساتھ ارتقاء دیکھنے میں آیا ہے۔۔پروفیسر ارشاد احمد حقانی جیسے خشک کالم سے ہوتی ہوئی جاوید چودھری کے کالم تک آ پہنچی ہے۔یہ سفر یقینا خوش آئند ہے۔قلم سے رشتہ اگرپندرہ سال پرانا ہے تو اخبار سے بیس سال۔راقمہ آج تک ارشاد احمد حقانی کا کالم مکمل طور پر کبھی نہیں پڑھ پائی،بوریت ایک دم اپنے حصار میں لے لیتی اور چھوڑے بنا چارہ نا رہتا،پھر وہ وقت بھی آیا کہ جاوید چودھری کے کالم زبانی یاد ہو نے لگے۔زیرو پوائنٹ الماریوں کی زینت بننے لگی اور ہررات اس کا مسکن میرا تکیہ ہوتا جہاں صبح گھر والے بستر کے ساتھ اٹھایا کرتے تھے۔

نو آموز کالم نگاروں کے لئے چند نکات ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر وہ بہترین کالم نگار بن سکتے ہیں۔۔
کالم نگار بنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کا حاصل مطالعہ زیادہ سے زیادہ ہو۔کہا جاتا کہ ایک کالم نگار بنے کے لئے آپ کو کسی معیاری کتاب کے دو سو صفحات کا روزانہ مطالعہ کرنا چاہیئے۔ دوسرا نکتہ یہ کہ آپ کو روزانہ لکھنے کی پریکٹس کرنی چاہیئے،چاہے ایک صفحہ ہی کیوں نہ ہو۔لکھنے سے آپ کی تحریر میں نکھار آئے گا۔پریکٹس جتنی ہوگی اتنا ہی مفید ہوگا۔ مقررہ وقت پہ لکھنا بھی لکھنے کی ایک مفید عادت ہے۔بانو قدسیہ اور مستنصر حسین تارڈ کی تحریر کا حسن یہ ہے کہ یہ روز لکھتے تھے اور مقررہ وقت پر لکھتے تھے۔
مشاہدہ کرنا،یہ ایک ایسا وصف ہے جو کسی بھی قلم کار کے لکھنے کا اہم جزو ہے۔کالم نگار کو روزانہ 21 اشیاء کا گہری نظر سے مشاہدہ کرنا چاہیئے۔انسان روزانہ بیسیوں اشیاء پر نظر ڈالتا ہے مگر یہ نظر اس طرح سے ڈالے کہ سوچے مجھے اس پر کچھ لکھنا ہے۔مثلا تین دن پہلے سے میں سوچ رہی تھی کہ مجھے کالم نگاری پہ کوئی آرٹیکل لکھنا ہے۔اس حوالے سے مائنڈسیٹ کیا ہوا تھا۔جب آپ کسی کا م کا مائنڈ بناتے ہیں تو پھر اگلے ہی دن سے دماغ جو گوگل کی طرح ہے مگر گوگل سے بھی کئی گنا زیادہ پاورفل۔۔۔ کالم نگاری پہ سوچنا شروع کردیا،اورمطلوبہ نتائج ملنا شروع ہو گئے۔بالکل یہی طریقہ کالم نگاری کے لیے اختیار کیجئے،رات سونے سے پہلے دماغ سے کہیں مجھے فلاں موضوع پہ معلومات درکار ہیں۔اب آپ سو چکے مگر لاشعور جو سوتے میں بھی کام کرتا ہے۔وہ اسی وقت اپنی سر چنگ شروع کر دیتا ہے۔
کالم نگاری کے لئے خالصتا علمی انداز سے بہتر ہے تھوڑا دلچسپ انداز اپنایا جائے،کیونکہ قاری اپنی صبح کو خوش گوار بناناچاہے گا۔اس کے لئے ضروری ہے کہ کوئی کردار تخلیق کر لیا جائے۔اور اس کردار کے زریعے سے سوالات کروا کر کالم نگار دلچسپ انداز میں جواب دے۔مثلا آپ لکھیں کہ آج میرے پاس نورہ تیلی آیا کہنے لگا کہ انسان جیتا کیوں ہے؟لو جی یہ بھی کوئی اوکھا سوال ہے ظاہر ہے زندگی کے لئے اپنے بال بچوں کے لیے۔۔تو پھر شیدہ ٹلی میرا مطلب شیخ رشید کے تو بال بچے بھی نہیں اور عمر بھی آخری توپھر وہ کیوں ؟اس طرح سے کالم کی ابتدا کر سکتے ہیں۔
کالم کی ابتداء اور انتہاء پہ خصوصی نظر ہونی چاہیئے۔ہر پہرہ کڑیوں کی طرح ایک دوسرے سے مربوط ہو نا چاہیئے۔یہ نہیں کہ ایک پہرے میں کچھ اور دوسرے میں کچھ لکھا ہو۔ایک دانش مند کالم نگار وہ ہوتا ہے جو بڑی چا بک دستی اور مہارت سے حقائق کھولتا چلا جائے۔کردار اگر نہ متعارف کروائیں تو تاریخ کے کسی واقعہ سے آغاز کر سکتے ہیں۔جو دلچسپ اور اچھوتا ہی نہ ہو آپ کے مرکزی موضوع سے بھی میل کھاتا ہو۔کوشش کریں کہ ہر پہرہ گراف میں الگ نقطہ بیان کیا جائے،تکرار سے پرہیز کیا جائے۔فرقہ واریت سے پرہیز کریں۔موضوع سے مطلب رکھیں اس سے منسلک انسانوں سے نہیں۔جو بھی لکھیں ،ریسرچ پر مبنی ہو۔مکمل تحقیق سے لکھیں۔بیان کردہ معلومات کی پہلے تسلی کریں پھر لکھیں۔یہ چیز آپ کو ایک مستند اور سچا کالم نگار بنائے گی۔
کالم نگار بننے کے لیے ضروری ہے کہ نئے اور پرانے کالم نگاروں کو پڑھا جائے،انکے انداز فن کو پرکھا جائے۔ نصراللہ خان : مجید لاہوری ابن انشا ، طفیل احمد جمالی اور براہیم جلیس اچھے کالم نگار تھے۔جبکہ آج کل جاوید چودھری،اوریا مقبول جان، محمد عامر خاکوانی ہیں۔نصراللہ خاں کو ضرور پڑھیں ان کا شمار بہترین فکاہیہ کالم نگاروں میں ہوتا ہے۔انکے اسلوب تحریر کو خاصی پزیرائی ملی انہوں نے نصف صدی تک اپنے قلم سے اچھوتے اور منفرد کالم لکھے۔یہ اعزاز انہی کی انفرادیت بنا۔جنگ،حریت اور ہفت روزہ تکبیر میں ان کے کالم چھپتے رہے۔
جہاں تک کالم نگاری کے لیے موضوعات کی بات ہے تو سیاسی حالات اور طنز کی دنیا سے نکلنا چاہیئے۔انٹرنیشنل موضوعات کو موضوع بنائیں۔ہمارے ہاں اس موضوع پر کم ہی کالم لکھے جاتے ہیں۔دلچسپ اور اچھوتے موضوعات جو جدید اور قدیم کا امتزاج ہو،سائنس اور مذہب کی قلعی کھولتے ہوئے عوام کے مسائل کے حل کی نشاندہی کریں۔پڑھنے والے کو علم و حکمت کے موتی اپنے دامن میں سمٹتے محسوس ہوں۔نہ کہ صرف لفظ نگاری کا پر تو۔
جس طرح مختصر کہانیوں نے ادب میں جگہ بنائی ہے بالکل اسی طرح اب مختصر کالم نگاری کا فن بھی جنم لے چکا ہے ۔میرا خیال ہے اگر کم لفظوں میں زیادہ ادب قارئین تک پہنچانا چاہیں تو یہ ایک اچھا طریقہ ہے۔منو بھائی جو اس فن کے لیجنڈ مانے جاتے ہیں انھوں نے کام نگار کے لئے چار چیزوں کو بنیادی قرار دیا۔مطالعہ،تربیت،نظریہ اور رویہ،ان کا کہنا ہے کہ زبان اور ایمان کے بغیر آپ کالمسٹ نہیں بن سکتے۔انھوں نے درخت کو مخلتف انداز سے دیکھنے کو بطور مثال پیش کیا،اسی درخت کو لکڑ ہارا اور نظر سے دیکھے گا اور بڑھئی اور نظر سے،پرندہ اور نظر سے دیکھے گا اور مالی اور نظر سے،سب اپنی اپنی ضرورت اور مزاج کے مطابق اسے دیکھتے اور استعمال میں لاتے ہیں۔اور سبھی معتبر رائے رکھتے ہیں۔یہی حال قلم کار کا ہوتا ہے۔کالم نگار اپنے زاویہ نگاہ سے دنیا کے حقائق کو بیان کرتا چلا جاتا ہے۔ادیب سجاد میر کالم نگار کو تین نکاتی ایجنڈا دیتے ہیں۔لکھتے رہو،سوچتے رہو اور جیتے رہو۔عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ کالم نگاری کے لیے فکر اور کلچر کا شعور ضروری ہے۔

محنت اور مستقل مزاجی کالم نگاری کے لئے بنیادی شرط ہے۔اس کے بغیر کبھی آپ کالم نگار ی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔کالم نگار ہر وہ شخص بن سکتا ہے جو لکھنا جانتا ہو،آپ میری بات سے اتفاق کریں یا نا کریں مگر یہ حقیقت ہے کالم نگاری آپ کے وسعت مطالعہ کی محتاج ہے۔اگر آپ کے پاس خیالات ہیں معلومات ہیں تو لفظ ہاتھ باندھے آپ کے سامنے حاضر ہوتے چلے جائیں گے۔تھوڑی سی محنت اور مشق سے آپ ایک ماہر کالم نگار بن جایئں گے۔
آخر میں صرف اتنا کہ بے اصولی کی اس دنیا میں با اصول بنیں۔اصولوں پہ کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔قلم کی حرمت اور دفاع آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیئےپیسے کو کبھی مقصد نا بنائیں۔کیونکہ بڑی منزل کے مسافر چھوٹے چھوٹے ٹارگٹ نہیں بناتے۔ان کی نظر آسمان پر ہوتی ہے ۔آسمان کی وسعتوں میں اپنا مقدر تلاش کیجئے۔زندگی آپ پر اپنے در وا کرتی چلی جائے گی۔اللہ آپ کو حق لکھنے اور حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائےآمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں