49

آج کا کالم : موازنہ

موازنہ۔۔۔۔۔۔۔ہم کتنے مجبور اور بے بس ہیں اپنی آنکھوں سے وقت کو رخت سفر باندھے اپنے سامنے سے گزرتا ھوا دیکھتے ہیں۔یہ وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار، نہ جانے کہاں جا رہا ہے۔ اس وقت کو خدا جانے، کہاں وقت پر پہنچنا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ یہی وقت ہی زندگی ہے۔اگر وقت گزر جاے تو زندگی بھی ہمیں گزار کے چلی جاتی ہے ۔یہ گزری ہوئی ساعتیں نہ جانے ہمارے ہاتھ سے کسک کر کہاں چلی جاتی ہیں ۔ ھم لاکھ چاہیں مگر صرف چاھنے سے وقت کہاں لوٹ کر آتا ہے۔۔۔۔۔ اس دھرتی پر مسکراہٹوں کی مالا چنتے چنتے نہ جانے کتنے حسین لوگ اپنا وقت گزار کر جاچکے ہیں۔۔ نہ جانے یہ پیارے پیارے لوگ کہاں چلے جاتے ہیں۔ پھر لوٹ کر ہی نہیں آتے۔۔۔ کسی نے سچ ہی تو کہا تھا کہ جانے والوں میں بس، یہی برائی ہے کہ یہ لوٹ کر نہیں آتے۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھی نہ جانے کیوں میرے ہاتھوں میں اتنی طاقت آ جاتی ہے کہ میں اوقات کے اوزان کرنے بیٹھ جاتا ہوں۔ گزرے ہوئے لمحوں کو اور گزرے ہوئے لوگوں کو گنتے گنتے مجھے صبح سے شام ہو جاتی ہے۔ میرے ہاتھ کا یہ ترازو، مجھے آج تک یہ نہیں بتا سکا۔ کہ ترقی کو کامیابی کہنے والے، ہم لوگ اچھے ہیں یا سادگی کے پیروکار ہمارے وہ آبا و اجداد اچھے تھے۔۔ گزرے ہوئے زمانے سے اپنے زمانے کا موازنہ کرتے ہوئے میں اور میرا زمانہ اکثر ہار جاتے ہیں۔۔ وہ بہتی ندیوں اور ابلتے چشموں سے پانی پیتے تھے۔ اور ہم سے اچھی صحت کے مالک تھے۔ ہم منرل واٹر اور وٹامن واٹر پیتے ہیں. لیکن بیمار رہتے ہیں۔۔وہ اپنے گھر کی دیوار پہ فقط ایک تلوار لٹکا کر رکھتے تھے اور دشمن کے حملوں سے کس قدر مطمئن زندگی گزارتے تھے. ہمارے دروازوں پر چوکیداروں کی ایک فوج ظفر موج کھڑی رہتی ہے لیکن پھر بھی ہمیں خوف اور بے چینی گھیرے رکھتی ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد پہاڑوں کا نمک کھا کر اپنے جسم کو وہ طاقت دیتے تھے۔ جو ہم آیوڈین اور آیو ڈائڈ نمک دے کر بھی نہیں دے سکتے۔۔۔ وہ دنداسے اور نیم کے پتوں سے اپنے دانتوں کو چمکانے والے ہمارے بزرگ، ہم سے اچھی صحت کے مالک ہوتے تھے ،رات کو بیٹھک اور چوپال میں ایک دوسرے کا درد بانٹتے، وہ لوگ ہنسی اور مذاق کی ایسی فیکٹریاں تھیں۔ جہاں کبھی مسکراہٹ کی پیداوار کم نہیں پڑتی تھی۔۔اور ہم سوشل میڈیا اور کیبل ٹی وی کی زنجیروں میں بندھے، پورے دن میں بمشکل ایک یا دو بار ہی دل سے مسکرا تے ہیں۔ وہ لوگ ہم سے بہتر تھے۔ پیدل چل کر یا پھر اونٹ اور گھوڑے کی پیٹھ پر سواری کرنے والے ہمارے اجداد، سو سال تک جی لیتے تھے۔۔ اور ہمارے پیر مہینوں زمین پر چلنے کو ترس جاتے ہیں۔۔ وہ لوگ چہرے پڑھتے تھے اور عقل مند کہلاے جاتے تھے۔ ہم کیمبرج اور آکسفورڈ کے سلیبس پڑھ کر بھی دانائ حاصل نہیں کر پاتے۔۔ وہ لوگ اپنے ہاتھ سے خوشیاں دوسروں میں بانٹتے تھے اور ہم دوسروں کی خوشیاں خود چاٹ جاتے ہیں۔۔ وہ مول کے بغیر مسکراہٹیں انبار کر تے تھے۔ اور ہم مسکراہٹوں کا کاروبار کرتے ہیں۔۔ ان لوگوں میں ایک کماتا تھا۔ اور سارے مل کر کھاتے تھے۔ ہم لوگ سارے مل کر کماتے ہیں لیکن کسی ایک کو بٹھا کر نہیں کھلا سکتے۔۔وہ لوگ سر پر سرسوں کا تیل لگا کے مانگ نکالا کرتے تھے۔ ہم لوگ قیمتی شیمپو لگا کر بال اڑایا کرتے ہیں ۔وہ استاد سے ملنے سیکڑوں میل کا سفر پیدل طے کرتے تھے۔ پھر عالم بن جاتے تھے۔۔ ہمارے گھروں میں چار چار استاد پڑھانے آتے ہیں۔لیکن ہم میں پھر بھی عالم نہیں بنا پاتے۔ وہ گھڑ سواری اور نیزہ بازی کے مقابلے دیکھتے تھے۔ اور بہادر بن جاتے تھے۔. ہم ڈراموں اور فلموں کے پورے پورے سیزن دیکھ لیتے ہیں۔ پھر بھی چوہے کو دیکھ کر چارپائی پر چھڑ جاتے ہیں۔ وہ مہینے میں ایک بار خط لکھ کر محبت بچا لیتے تھے۔۔ ہم ویڈیو چیٹ پر آمنے سامنے بھی محبت گنوا دیتے ہیں۔ وہ خط کو آدھی ملاقات کہتے تھے، ہم رابطوں کی اس بھرمار کو شکوک و شبہات کہتے ہیں۔۔لیکن سچ تو یہ ھے کہ وقت کا بہتا دریا یوں ہی بہتا ر ہےگا۔۔ ہم وقت کے لمحوں کو قید نہیں کر سکتے۔۔ گھڑیال کی گھومتی سویاں یوں ہی گھومتی رہیں گی۔ وقت رکتا نہیں ہے کسی کے لئے۔ ہم سے پہلے کے زمانے ہم سے بہتر تھے۔ اگرچہ وہ سائنسی ایجادات اور مفروضات ہم سے کم جانتے تھے لیکن قرآن کو ہم سے بہتر سمجھتے تھے بقول علامہ اقبال “وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر۔ اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر۔

اس تحریر سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں