آج کا کالم : ظلم


ظلم کاش میرے پاس اختیار ہوتا تومیں مظلوم کی طرف بڑھنے والےہاتھ کوکاٹ کررکھ دیتا۔ظلم دیکھ کرمیراجسم پاش پاش ہوتا ہے آنسوں بےساختہ رواں ہوتے ہیں ظلم دیکھتاہوں مگر ظالم کو روک نہیں سکتا کیونکہ میں اُس معاشرےکا حصہ ہوں جہاں ظالم کونفرت وعداوت کی نظرسےنہیں دیکھاجاتا۔میں اس معاشرےکافرد ہوں جہاں مظلوم سے نفرت اورظالم سےمحبت کی جاتی ہےمیرے معاشرے میں ظلم کوظلم نہیں کہا جاتا۔یہ وہ معاشرہ ہے جو ظلم وبربریت دیکھ دیکھ کربےحس اوروحشی ہوچکاہے۔میں اس ملک کاباشندہ ہوں جہاں ملک کاسب سے بڑامنصف{چیف جسٹس}خود شراب پکڑنے کے باوجود شراب کو شراب ثابت نہیں کرسکتا۔
میں نے اس عنوان کاانتخاب اس لیےکیا کہ ظلم کے خلاف اپنی آوازبلندکرسکوں۔کیوں کہ

شکوہِ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

وطنِ عزیز جو اسلام کے نام پرحاصل کیا گیا تھا آج ظلم وبربریت کی علامت بن چکا ہے اس ارض پاک کوحاصل کرنے کا مقصدہم بھول چکیں ہیں یہی وجہ ہےکہ ہم پستی کی طرف جا رہے ہیں۔وطن کی مٹی کازرہ زرہ تڑپ تڑپ کرفریادکررہا ہے کہ میں اس لیےنہیں حاصل کیا گیا تھا کہ میرےاوپر ظالموں کی حکمرانی ہو اور مظلوم پس رہے ہوں۔اس ارض مقدص پر کیا کیا ظلم ہوے؟میں کون کون ساظلم لکھوں؟کس کو ذمہ دار ٹھراٶ؟ کسی کو ذمہ دارنہیں ٹھراسکتا؟کیونکہ ہم نے اپنی ہی تخریب کاریوں سے اپنانشیمن جلا ڈالا کسی شاعر نے کہاتھا

میں یہ کس کےنام لکھوں جو علم گزر رہےہے
میرے شہر جل رہےہیں میرے لوگ مررہے ہے
کوی اور تو نہیں ہیں پس خنجر آزمای
ہم ہی قتل کررہےہے ہم ہی قتل ہو رہے ہے۔

کھبی میری نظرساہیوال واقعہ پر پڑتی ہےکھبی میں سوات کے ان معصوم طالبعلموں کو دیکھتا ہوں جو دھماکے میں مارے جاتے ہیں۔کھبی میرے سامنے بسمہ کھڑی ہوجاتی ہے اور کہتی ہےکہاں گےمجھےمارنے والےکھبی میں معصوم کلی زینب کو دیکھتا ہوں جوہوس کی نظرہوگی میں سوچتاہوں جب وہ درندہ معصوم کلی کو اپنے پیروں تلے کچل رہاتھا توعذابِ الہی نےاسےکیوں نہیں ہلاک کیا ننھی زینب پکار پکارکر کہ رہی تھی

کہاں ہے ارض وسماں کامالک کہ چاہتوں کی رگےکریدے
حوس کی سرخی رُخِ بشر کا حسین غازا بنی ہوی ہے
ارےکوی مسیحاادھربھی دیکھے کوی تو چارہ گری کواترے
افق کا چہرہ لہو میں ترہے زمین جنازہ بنی ہوی ہے

زینب کےقاتل کوپھانسی دےدی گی لیکن اس کی سسکیاں آج بھی مجھے رولارہی ہےاورزینب جیسی کٸ بچیاں انصاف کی منتظریےوقت کےحکمران کہاں ہےاس مخلص نڈراوردلیرقوم کے ساتھ کیاہورہاہے۔ آخراس قوم کی بچیاں کب تک ہوس کی بینت چڑھتی رہے گی آخر کب تک یہ ظلم و ستم ہوتا رہے گاکون مظلوموں کاسہارابنےگا کون ان کا مسیحا بن کر ان کی چا رہ گری کرے گا؟ کوٸ اورنہیں
میں ان کاسہارابنوں گاآپ اس قوم کے مظلوموں کاسہارابنےگےہم سب مل کر اس معاشرےکوظالموں سےنجات دلاے گےقوموں کی تعمیرمیں معجزے نہیں ہوا کرتے ۔خودہی منزل کاتعین کرناپڑتا ہے اوراس
تک پہنچنے کےلیےرستے تلاش کرناپڑتے ہیں۔مایوس نہیں ہونا وقت زیادہ نہیں کیونکہ ظلم جب حد سےبڑ ھتاہےتومٹ جاتاہے۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں