آج کا کالم : حقیقت کیا ہے

شروع اس پاک رب کریم کے نام سے “الذی خلق سبع سماوات طباقا”جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے ہوے ہیں ۔ اورآسمانوں کو بھی زینت بخشنے والابھی ہے۔اور پھر فرمایا۔ اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ(۱۹۰)
ترجمہ: کنزالایمان
بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لیے۔
اقبال فرماتے ہیں ۔تشیریح آخری کالم میں ملے گی۔
‏پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
مُلا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور۔۔۔
سائنس و ٹیکنالوجی اور روئیت ہلال
یہ کالم لکھنے کا مقصد چند سوالات و اعتراضات جو ذہن میں خلعشوں کو ہوا دے رہے ہیں ۔امید ہے کہ آپ کے ذہن میں پیدا ہونے والے اعتراضات آپ کو اکیلا چھوڑ جائیں۔شاید ان سے اکیلا پن آپ کو پسند آئے۔یہ تحقیق تقریبا پانچ کالمز تک پہنج جائے گی ۔اور انشاء اللہ یہ پراسس پانچ دنوں میں مکمل کر دوں گا ۔
بنیادی طور پر تو سائنس ایک منظم طریقۂ کار کے تحت کسی بات کو جاننے یا اس کا علم حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے، اس طرح کہ اس مطالعے کا طریقہ اور اس کے نتائج دونوں ہی بعد میں دوسرے دہرا سکتے ہوں یا انکی تصدیق کرسکتے ہوں یعنی یوں کہـ لیں کہ وہ قابل تکرار (replicable) ہوں اور اردو میں اس کو علم ہی کہتے ہیں۔ فی الحال سائنس کا کوئی ایسا ترجمہ کرنے (یا اگر کیا گیا ہے تو اس کو عام کرنے) کی کوئی باضابطہ کوشش نہیں کی گئی ہے کہ جو اس کو دیگر علوم سے الگ کرسکے اس لیے اس مضمون میں علم اور سائنس متبادلات کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں، لہذا یوں کہ سکتے ہیں کہ مطالعہ کر کہ کسی چیز کے بارے میں جاننا (یا ایسی کوشش کرنا) یعنی علم ہی سائنس ہے۔ انگریزی میں سائنس کا لفظ لاطینی کے scientia اور اسے قبل یونانی کے skhizein سے آیا ہے جس کے معنی الگ کرنا، چاک کرنا کہ ہیں۔ مخصوص غیر فنونی علوم جو انسان سوچ بچار حساب کتاب اور مطالعہ کے ذریعہ حاصل کرتا ہے کہ لیے سائنس کے لفظ کا جدید استعمال سترہویں صدی کے اوائل سے سامنے آیا۔
ٹیکنالوجی انگریزی کے لفظ ٹیکنالوجی کا اردو مترادف ہے۔ انگریزی میں یہ لفظ یونانی زبان کے tekhno + logia سے آیاہے جس کے معنی کسی ہنر فن یا تکنیک (طرز) کے منظم مطالعہ کے ہیں۔ میکانیکی علم (مکینکل سائنس) اور صنعتی فنون کے تحت مفہوم میں اس کا موجودہ استعمال 1859 سے شروع ہوا۔ جبکہ طرزاعلی (ہائی ٹیک) کے لفظ میں اس کا استعمال 1972 سے ہوا ہے۔
ٹیکنالوجی کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ کسی میکانیکی علم یا کسی فن کا توضیعی مطالعہ یا شرح، ٹیکنالوجی کہلاتا ہے۔ ٹیکنالوجی؛ علم (سائنس) اور انجینئر دونوں کا احاطہ کرتی ہے اور بطور خاص ان اوزاروں، مادوں، اجسام اور آلیات (مشینوں) پر بحث کرتی ہے جو انسان کی ترقی میں کردار رکھتے ہیں۔
کیا سائنس اور ٹیکنالجی ہی سب کچھ ہے ۔کچھ حقائق آپ کے سامنے۔۔
کا زوال سائنس و ٹیکنالوجی میں پس ماندگی کی وجہ سے ہے ؟
سائنس و ٹیکنا لوجی کو عام طور پر ایک ہی سمجھا جاتا ہے مگر ان دونوں کے درمیان فرق ہے ۔ سائنس تو معلومات کو منطق اور تجربے پر پرکھ کر متعین قوانین کی دریافت کا نام ہے۔ اس کے مقابلے میں ٹیکنالوجی، معلوم شدہ سائنسی قوانین کا اطلاق کرکے ایسی اشیاءکی تیاری کا طریقہ¿ کار ہے جن کی مارکیٹنگ ممکن ہواوران اشیاءکی تیاری پر آنے والی لاگت اس کی قیمت فروخت سے کم ہو ۔ اگر کسی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیارکی جانے والی اشیاءکی لاگت ان کی قیمت فروخت سے زیادہ ہو تو ایسی ٹیکنالوجی ترک کردی جائے گی۔ سائنس تو ایک علم کا نام ہے مگر موجودہ دور کی ٹیکنوسائنس کا گہرا تعلق سرمایہ داری کی ساتھ ہے۔ ٹیکنالوجی سرمایہ داری کی اقدار اپنے ساتھ لے کر آتی ہے ۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ جن معاشروں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو عروج حاصل ہوا ان تمام معاشروں میں مذہبی، اخلاقی اور خاندانی اقدار زوال پذیر ہو گئیں۔ امریکی اور یورپی معاشرے اس کی واضح مثال ہیں اور اب چین بھی اسی راہ پر گامزن ہے۔
تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج جو مغربی تہذیب نے پیش کیا وہ سائنس و ٹیکنالوجی کا تھا اور ہے۔اس چیلنج کاجواب سرسید سے اب تک یہی دیا گیا ہے کہ مغرب نے اب تک کی تمام ترقی سائنس وٹیکنالوجی کے طفیل کی ہے لہٰذا اگر امت ِ مسلمہ کو بھی اگر ترقی کے راستے پر جانا ہے اور مغرب کا مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں بھی سائنس وٹیکنالوجی کا وہی ہتھیار حاصل کرنا پڑے گا جو مغرب کے پاس ہے۔
اس کے مقابلے میں دوسرے مکتبہ¿ فکر کا خیال ہے کہ تاریخ کا مطالعہ اس بات کو غلط ثابت کرتا ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کی بدولت قومیں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرتی ہیں ۔ اس سلسلے میںسب سے پہلی مثال مسلم افواج کے ہاتھوں ایران اور روم کی طاقتوں کی شکست ہے۔ ایران کی عظیم الشان سلطنت کے انہدام کے بعد روم کے دارلسلطنت قسطنطنیہ کی فتح نے اسباب ،عسکری قوّت اور ٹیکنالوجی کے بجائے ایمان کوبرترطاقت ثابت کردیا۔
بعد کے تاریخ میں تاتاریوں کے عباسی سلطنت پر حملے اور قبضے نے اس موقف کو استحکام بخشا ۔ تاتاریوں نے جب عباسی سلطنت پر حملہ کیا تو عباسی سلطنت دنیا کے تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی ۔ اس سلطنت میں علم کے عروج کا یہ عالم تھا اس کہ بیت الحکمت میں اٹھائیس زبانوں میں ترجمہ کرنے کا انتظام موجود تھا ،خود دربار میں منطق ،فلسفے اور انشاءپر بحثیں معمول کا حصہ تھیں۔گھوڑوں، تلواروںاور لشکر میں عباسی سلطنت کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ مگرصحرائے گوبی کے وحشی تاتاریوں نے آناََ فاناََ عباسی سلطنت کو الٹ کررکھ دیا۔ اس زمانے کی سائنس میں عباسیوں کا عروج اور عظیم الشان مملکت کی شان وشوکت انہیں تاتاریوں کے ہاتھوں شکست سے نہ بچاسکی ۔ تاریخ نے بتایا کہ کم تر وسائل اور سائنس سے بے گانگی تاتاریوں کے راستے کی رکاوٹ نہ بن سکی اور نہ ہی عباسیوں کی علمی برتری انہیں شکست سے محفوظ رکھ سکی ۔
دوسری طرف یہ ہوا کہ عالم اسلام نے عباسی سلطنت کی شکل میں اپنا ملک کھودیا مگر تاریخ نے یہ بھی بتایا کہ عالم اسلام نے دوبارہ تاتاریوں پر غلبہ حاصل کرکے اپنی شکست کو فتح میں تبدیل کردیا، مگر سب کچھ سائنس کی بدولت نہ ہوا بلکہ ہوا یہ کہ تاتاریوں نے بلاشبہ جنگ کے ذریعے مسلمانوں کے مغلوب کرلیا مگر اسلام کے آفاقی پیغام سے شکست کھاگئے اور تاتاریوں کی بہت بڑی اکثریت نے اسلام قبول کرلیا ۔ بقول اقبال :
ع کعبے کو مل گئے پاسباں صنم خانے سے
اقبال کہتے ہیں:
ع حرم رسوا ہوا پیر ِ حرم کی کم نگاہی سے جوانان ِ تارتاری کس قدر صاحب نظر نکلے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں