چلتی بائیک پر خطرناک سٹنٹ کرنے والی پاکستانی لڑکی – حمیرا بائیکر

چلتی بائیک پر خطرناک سٹنٹ کرنے والی پاکستانی لڑکی – حمیرا بائیکر

حمیرا صدیق کی اُردولائٹ کے ساتھ تفصیلی گفتگو

اُردو لائٹ سے بات کرتے ہوئے حمیرا سے جب سوال کیا گیا کہ آپ کہاں سے ہیں اور آپ بائیکنگ کے علاوہ کیا کرتی ہیں تو اسکے جواب میں حمیرا صدیق کا کہنا تھا کہ

اُنکا آبائی شہر اوکاڑہ ہے جب کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کےلیئے لاہور میں رہائش پذیر ہیں اس کے علاوہ حمیرا ایک ڈینٹسٹ بھی ہیں اور حمیرا صدیق خطرناک سٹنٹ کے ساتھ ساتھ مارشل آرٹس کی بھی ماہر ہیں اور مارشل آرٹس میں بلیک بیلٹ ہیں مذید کہنا تھا کہ وہ فٹنس ٹرینر بھی ہیں۔

اردو لائٹ کی ٹیم نے اُن سے مذید سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ اُنکو بائیک کا شوق کب اور کیسے پیدا ہوا؟


حمیرا کا کہنا تھا کہ بائیک چلانے کا شوق مجھے بچپن سے تھا شروع میں بائیک چلانا بھائی سے سیکھی لیکن اوکاڑہ میں کچھ زیادہ نہ سیکھ سکیں اُنکا کہنا تھا کہ وہ بائیک میں مہارت لاہور آ کر حاصل کی اُنکا کہنا تھا کہ اوکاڑہ میں مہارت حاصل نہ ہونے کی ایک وجہ لڑکیوں کا بائیک چلانا اچھا نہیں سمجھا جاتا ۔


حمیرا سے جب سوال کیا گیا کہ آپ نے جب بائیک چلانا شروع کیا تو آپکو کِن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟


حمیرا کا کہنا تھا کہ جب بائیک چلانا شروع کیا تو عوامی شہراہوں پر مشکل پیش آتی تھی ہر بندہ میری طرف دیکھتا تو مجھے عجیب محسوس ہوتا تھا لیکن بعد میں میں نے سوچا کہ اگر لوگوں کی طرف دھیان دیا تو کبھی نہیں کر پاوں گی لیکن اب ایسا کچھ نہیں ہے حمیرا کا کہنا تھا کہ اس کےلیئے مجھے میری فیملی کی مکمل حمایت حاصل ہے


جب حمیرا سے ٹوئرز کے متعلق سوال کیا گیا تو


حمیرا کا کہنا تھا کہ ابھی لانگ ٹوئرز نہیں کیئے لاہور اور لاہور سے آبائی شہر اوکاڑہ آنا جانا ہوتا ہے لیکن حمیرا اب پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا ٹوئر پلان کر رہی ہیں


حمیرا سے بائیک کے متعلق سوال پر اُنکا کہنا تھا کہ وہ یاماہا (وائے بی آر) بائیک چلاتی ہیں اور حمیرا ایک لائسنس یافتہ بائیکر ہیں۔
حمیرا سے جب اُنکے پسندیدہ بائیکس کے بارے پوچھا گیا تو اُنکا کہنا تھا کہ وہ اسپورٹس بائیکس پسند کرتی ہیں جیسا کہ R3 R6 Honda Repsol Hayabusa Chopper اور GXR 600cc انہیں بہت پسند ہیں۔

اُن سے ایک سوال میں پوچھا گیا کہ ہمارے معاشرے میں جو لڑکیاں بائیک چلانا چاہتی ہیں آپ اُنکو کیا پیغام دیں گیں

تو حمیرا صدیق کا کہنا تھا کہ اگر آپ بائیک چلانا چاہتی ہیں تو “لوگ کیا کہیں گے” جیسے الفاظ کو نظر انداز کرنا ہو گا اور بائیک سیکھنا کیوں کہ بائیک ہر گھر کی ضرورت ہے
حمیرا صدیق سے اُردولائٹ کی ٹیم نے آخری سوال پوچھا کہ اگر آپکو گورنمنٹ کوئی موقعہ دے تو آپ کیا کرنا چاہیں گیں

تو اُنکا کہنا تھا کہ وہ اپنی اسکلز آگے سکھانا چاہتی ہیں ڈرائیونگ سکول بنانا چایتی ہیں اور وہ لوگوں کی مدد کرنا چاہتی ہیں

اگر آپکو حمیرا صدیق کی کہانی کے بارے اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو نیچے کمنٹ میں ضرور بتائیں

بہت جلد اِک نئی داستان کے ساتھ

تصاویر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں