طالبان حکومت کو تسلیم کرنا اجتماعی عمل ہونا چاہیے، وزیراعظم

طالبان حکومت کو تسلیم کرنا اجتماعی عمل ہونا چاہیے، وزیراعظم







وزیراعظم عمران خان نے زور دیا ہے کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا اجتماعی عمل ہونا چاہیے۔ فرانس کے لی فیگارو کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ افغان حکومت زیادہ مستحکم ہوگی، وہاں دہشت گرد گروپ اتنے ہی کم کام کر سکتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ آخری چیز جو پاکستان چاہتا ہے وہ واحد ملک ہے جو طالبان کی حکومت کو تسلیم کرتا ہے۔ اگر پاکستان تسلیم کرنے والا پہلا ملک ہے، تو بین الاقوامی دباؤ ہم پر بہت زیادہ ہو جائے گا کیونکہ ہم اپنی معیشت کا رخ موڑنے کی کوشش کریں گے۔ ہم تب ہی ٹھیک ہو سکتے ہیں جب ہمارے بین الاقوامی برادری کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت نے شمولیتی حکومت اور انسانی حقوق کے معاملات پر وعدے کیے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ افغانوں سے خواتین کے حقوق کا احترام کرنے کی توقع نہیں کی جانی چاہئے کیونکہ مغربی لوگ انہیں سمجھتے ہیں۔ لیکن وہ اس بات سے متفق ہیں کہ لڑکیوں کو تعلیم دینی چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہماری پہلی فکر مہاجرین ہے۔ اگر افغانستان میں انسانی بحران مزید بڑھتا ہے تو ہمارے پاس مہاجرین کی آمد ہو گی، جب کہ کابل کے سقوط کے بعد 240,000 سے زیادہ پہلے ہی اپنے ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ ہمارے پاس مزید پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے وسائل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ بین الاقوامی دہشت گردی افغانستان سے چلے لیکن یہ طالبان حکومت کی مدد سے ہی ہو سکتا ہے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسّی ہزار جانیں گنوا چکے ہیں اور ہم افغان حکومت کے ساتھ تنازع نہیں چاہتے۔ ہم جنگ میں نہیں امن میں امریکا کے ساتھ شراکت دار ہوں گے۔ جموں و کشمیر تنازعہ کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر اعظم نے کہا کہ بی جے پی حکومت اور آر ایس ایس کا پاکستان اور کشمیر کے تئیں رویہ تشویشناک ہے۔ ہم ایک ایسی حکومت سے نمٹ رہے ہیں جو عقلی نہیں ہے، جس کا نظریہ مذہبی اقلیتوں اور پاکستان سے نفرت پر مبنی ہے۔ ہم ان سے بات نہیں کر سکتے۔ ہم ایک ڈیڈ اینڈ پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھارت کے ساتھ بات چیت کشمیریوں کے ساتھ غداری ہوگی جنہوں نے بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور جو خطے میں 800,000 فوجیوں کی تعیناتی کے ساتھ کھلی فضا میں جیل کے ماحول میں رہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ممکن ہے لیکن اس کے لیے کشمیر کی خودمختاری کی بحالی ضروری ہے۔ انہوں نے اس منسوخی سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ فرانس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم نے نشاندہی کی کہ ہماری برآمدات کا تقریباً نصف یورپی یونین کو جاتا ہے جس میں سے فرانس سب سے اہم رکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس ہمارا تجارتی پارٹنر بھی ہے اور وہ دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کے لیے صدر میکرون سے ملاقات کرنا چاہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں