50

ایک چراغ بجھ گیا، سحر دیتے دیتے

دس سال کی عمر کے اس بچے کے ہاتھ میں ہمیشہ ایک کاپی ہوتی۔اور وہ وقت مقررۂ پر قبرستان کی طرف چلا جاتا۔ لوگ اسے دیکھتے تو طرح طرح کے اندازے لگاتے۔ کوئی سوچتا کہ شاید اسے پرانی قبریں شمار کرنے کا شوق ہے۔ کوئی کہتا نہیں۔ وہ قبرستان کے کنارے درختوں کو گن کر رکھتا ہے ۔لیکن اسے کسی کی پروا تھی اور نہ کسی سے غرض۔ اسےتو صرف یہ فکر لاحق رہتی تھی ۔کہ آج اس نے اپنے ریاضی کے استاد ولایت شاہ سے کیا کیا سوالات کرنے ہیں۔۔ اس کا ریاضی کا استاد ولایت شاہ قبرستان کے کنارےآباد اپنے پرانے دوست کے گھر آتا تھا۔۔دوست آپس میں گپ شپ کرتے۔۔ اور اس طالب علم کو اپنے استاد سے باتیں کرنے کا موقع مل جاتا۔ وہ علم ریاضی کے بارے میں مختلف سوالات کیا کرتا تھا۔۔ اور اسکا لائق استاد اسے مطمئن کرنے کی پوری کوشش کرتا تھا۔۔دوسری طرف انگریزی کے استاد غلام رسول نے بھی اس بچے سے وعدہ کر رکھا تھا۔۔ کہ اگر وہ روزانہ فجر کی نماز سے پہلے ایک گھنٹہ اٹھ کر انگریزی پڑھےگا ۔تو وہ اسے بغیر معاوضے ٹیوشن پڑھایا کرے گا۔۔اور یوں وہ روز صبح سویرے فجر کی نماز سے پہلے، لالٹین جلا کے بیٹھتا تھا۔ جب تک کسان ارد گرد کھیتوں میں ہل چلانے کے لئے اٹھتے تو وہ انگریزی کا ایک سبق پڑھ چکا ہوتا تھا۔ قدرت آہستہ آہستہ اس بچے کو ایک بڑے کام کے لیے تیار کر رہی تھی۔ تعلیم کے میدان میں سختیاں جھیلنے والے اس بچے نے کل کو بالائ سندھ میں ایک ایسی درسگاہ قائم کرنی تھی۔۔ جس کے بارے میں وہ کہا کرتے تھے۔کہ میں اس عظیم درسگاہ کے معیار کو اس حد تک اوپر لے جاؤں گا۔ کہ وہ دن دور نہیں جب امریکہ کا صدر مجھے فون کرے گا کہ میں اپنے بچے کو آپ کی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانا چاھتا ھوں۔ اور میں کہوں گا کہ اس کے لیے آپ کے بیٹے کو ہمارے میرٹ پر آنا ہوگا۔ محنت کے اس فلسفے پر کاربند اس بچے کا نام نثار احمد صدیقی تھا۔۔۔ وہ نثار احمد صدیقی، جنہوں نے سندھ کے شہر سکھر میں ایک ایسی یونیورسٹی کا قیام ممکن بنایا۔۔ جس کو دنیا آئی بی اے سکھر کے نام سے جانتی ہے۔۔ یہ وہ واحد یونیورسٹی ھے جہاں پر ستر فیصد طلباء اسکالر شپ پر تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ یہ اللہ کا خاص کرم تھا کہ یہ چھوٹا بچہ بڑا ہوکر بالائی سندھ میں سیکھنے کا سب سے بڑا ایسا ادارہ بنا گیا۔ جہاں میرت کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ سکھر انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے انٹرپرائزنگ وائس چانسلر کے طور پر جانا جانے والا وہ شخص اپنی ذات میں ایک بہت بڑی دنیا تھا۔ 2004 سے لے کر اپنی زندگی کے آخری دن ، 22 جون 2020 تک انہوں نے انتھک محنت سے یہ عۂدہ برقرار رکھا۔
نثار احمد صدیقی 1943 میں سکھر شہر سے کوئی دس کلومیٹر دور واقع ویرائو گوٹھ نامی ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ اس کے کنبے کو ضلع خیرپور کے ایک چھوٹے سے شہر پیریالو میں اس وقت منتقل ہونا پڑا جب ان کے گاؤں میں سیلاب آیا۔ نثار صاحب کے والد عبدالوحید صدیقی خیرپور کی ضلعی عدالت میں ملازم تھے اور جب نثار صدیقی صاحب محض آٹھ سال کے تھے ۔ تو ان کا انتقال ہوگیا۔ نثار احمد صدیقی صاحب کے پانچ بڑی بہنیں اور ایک بھائی تھے ، جو ابتدائی بچپن میں ہی فوت ہوگئے تھے ، اور اس طرح اس خاندان میں نثار صاحب اپنے والدین کے واحد نرینہ اولاد رہ گئے تھے۔
انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول پیریالو سے میٹرک کیا اور پھر گورنمنٹ ناز پائلٹ ہائیر سیکنڈری اسکول خیرپور سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد وہ پیریالو کے اسی اسکول میں انگریزی ، ریاضی اور معاشیات کی تعلیم دینے کے لئے واپس آیے۔
لیکن نثار صاحب اس سطح کی تعلیم سے مطمئن نہیں تھے لہذا وہ سندھ یونیورسٹی جامشورو سے معاشیات ، ایم ایڈ اور ایل ایل بی میں ماسٹر کرنے کے علاوہ ، سی ایس ایس کے لیے کوشش کرنے لگے جو بالآخر انہوں نے امتیازی پوزیشن سے پاس کیا۔ شروع شروع میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد ان کی ترقی بطور ڈپٹی کمشنر ہوئی۔ ان کی قابلیت اور مہارت کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی شخص کہہ سکتا تھا کہ اب کمشنر اور سکریٹری کے عہدے بھی ان سے دور نہیں تھے۔
1993 سے 1996 تک سکھر ڈویژن کے کمشنر کی حیثیت سے اپنے کام کے دوران نثار صاحب نے 1994 میں انسٹی ٹیوٹ اف بزنس ایڈمنسٹریشن کی بنیاد دو کمروں کی ایک بلڈنگ، پبلک اسکول سکھر میں رکھی تھی۔
ھی۔ کچھ عرصہ بعد حکومت سندھ نے ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے انہیں سکھر میں اراضی دی جس پر انہوں نے سکھر آئی بی اے کی خوبصورت اور دیدہ زیب بلڈنگ کھڑی کردی۔ 1994 سے 2004 تک سکھر آئی بی اے، آئی بی اے کراچی سے وابستہ رہا اور پھر اس کو اپنی ڈگری دینے کا چارٹر دیا گیا۔ 2004 میں بیوروکریسی سے ریٹائرمنٹ کے بعد ، نثار صاحب کو سکھر آئی بی اے کا وی سی مقرر کیا گیا ،
لیکن وہ وہاں نہیں رکے، اور واقعتا، یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں ان کا احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے تحت چلنے والے 13 کمیونٹی کالج اور 40 سے زیادہ اسکول شروع کے۔مشہور زمانہ پبلک اسکول سکھر ، بھی اس چھتری کے تحت چلتا ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے اس کے بڑے بیٹے فیاض اپنے عظیم باپ کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں “اگرچہ والد صاحب ڈپٹی کمشنر تھے ، ہم سب بھائی بہن سرکاری اسکولوں میں گئے۔ نثار صاحب نے ہمیشہ سرکاری اسکولوں کو ترجیح دی اور محسوس کیا کہ ان کے معیار کو بڑھانے کا واحد طریقہ داخلوں میں اضافہ کرنا تھا۔ نثار احمد صدیقی صاحب کے پورے کیرئیر میں ایک ایسی خوبی جس نے تعلیم کے بارے میں ان کے پورے نقطہ نظر کی نشاندہی کی، وہ ایمانداری تھی۔ اس کا اطلاق صرف ان کے کام ہی نہیں بلکہ ان کی ذاتی زندگی پر بھی ہوا۔ ان کے بیٹے فیاض نے اس وقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ۔ جب نثار صاحب میرپورخاص کے ڈپٹی کمشنر تھے، متعدد بار میرے استاد نے مجھے گھر واپس بھیجا کیونکہ میری وردی مختلف جگہوں پر پٹھی ہوئی ھوتی تھی۔ “بابا اساتذہ سے کہا کرتے تھے کہ تنخواہ آتے ہی انہیں نئی ​​وردی مل جائے گی۔” ان کے بچوں کو اسکول جانے کے لئے سرکاری گاڑی استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ پیدل یا ٹانگے پر جاتے تھے۔ ان کے بیٹے فیاض نے بات جاری رکھی اور کہا کہ”بابا ڈپٹی کمشنر تھے لیکن ہمارے گھر میں ہمارے پاس چار چارپاییاں اور ایک صوفہ سیٹ تھا۔، نثار احمد صدیقی صاحب کا یہ تعلیمی ادارہ سندھ میں وہ پہلا ادارہ تھا جس نے دھوکہ دہی سے آزاد امتحانی مراکز قائم کیے۔ یہی وجہ ہے کہ سکھر آئی بی اے کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔۔ ملکی اور غیر ملکی وظائف دینے والے ادارے سکھر آئی بی اے پر دل و جان سے اعتماد کرتے ہیں۔۔ راقم کو خود ایک دفعہ سکھر آئی بی اے میں لیکچرر شپ کا امتحان دینے کا موقع ملا۔ جہاں مجھے میرٹ کا بہترین مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔۔ امتحان کے اندر امیدواروں کے فنگر پرنٹس آن لائن چیک کئے گئے۔۔ ایسے میں سٹاف کی پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاق دیکھنے کے لائق تھا۔۔۔۔۔۔ نثار احمد صدیقی صاحب کا نام اب سکھر کے بیچوں بیچ سرخ رنگ کی اس خوبصورت عمارت پر ہمیشہ کے لئے رقم ہو چکا ھے۔ جو رہتی دنیا تک سندھ اور پاکستان میں علم کی شمعیں جلاتا رہے گا۔ صدیقی صاحب کے باقی ماندہ خواب پورا کرنے کی ذمہ داری آپ یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن پر ہے۔۔ جو یقینا لائق اور تجربہ کار لوگوں پر مشتمل ہے۔ ہم پرامید ہیں کہ اب وہ دن دور نہیں ۔ جیسے کہ وہ کہا کرتے تھے”میں اس دن کا انتظار کر رہا ہوں جب ایک امریکی صدر مجھے فون کر کے اپنے بیٹے کو سکھر آئی بی اے یونیورسٹی میں داخل کروانے کا ارادہ کرے گا”۔۔ اللہ سے دعا ہے کہ سکھر آئی بی اے کی مسجد کے سائے میں نثار احمد صدیقی صاحب کی ابدی آرام گاہ پر اللہ تعالی ہمیشہ کرم کی بارشیں نازل فرمائے۔امین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں